Saturday, February 21, 2009

محمد حمید شاہد

پیارے عمر میمن
:آداب
بہت شکریہ بھئی کہ تحریر کی تصویر بنا لی اور یوں خط تک رسائی ہوگئی۔ نئے عہد کی ایک یہ بھی” عطا “ہے کہ ہم تحریر کو تصویر کی صورت دیکھنے کے عادی ہوتے جارہے ہیں ۔ یہاں تواِن پیج سافٹ ویئر کی خرابی نے آپ کو تردد میں مبتلا کیا؛ میں بات اُس روّیے کی کر رہا ہوںجو ہمارے ہاں انٹرنیٹ کے زِیر اَثر متشکل ہورہا ہے۔ خیر بات کہیں اور چل نکلے گی ۔ پہلے توآپ کا شکریہ ادا کرنا ہے فوری اور مفصل جواب کا ۔ اور ہاں مجھے اپنے اعصاب کی تانت کے ساتھ کی بورڈ پر یوں بیٹھنا پڑا ہے کہ اس ” آپ“ کے لفظ نے چوکنا کیا ہوا ہے۔ سچ لکھوں گا :” آپ“ کا لفظ لکھتے ہوئے میں اپنے بھیتر تک سے مودب ہوجاتا ہوں اور گھبرا کر کچھ کا کچھ لکھ جاتا ہوں ۔ خیر مجھے اس کا التزام کرنا ہوگا کہ آپ کی طرف سے اس کا بطور خاص التزام ہوا ہے ۔ (جی حساب تو برابر کرنا ہی پڑے گا۔)رہ گئی وہ تعریف جو مجھ سے رواں ہوگئی ہے تو بھئی یقین جانو یہاں ایسے لوگوں کی کمی نہ پاﺅ گے جو مجھ سے نالاں ہیں کہ میں ان کی تعریف کرنے میں بخل سے کام لیتا ہوں ۔ اس تعریف کو اس لیے سچا جان سکتے ہیں کہ مجھے آپ سے کوئی مطلب نہیں ہے۔ نہ ہی آپ نے مجھ پر اس سے قبل کوئی کرم کیا کہ بدلہ چکا رہا ہوں ۔ مجھے جو چیز اچھی لگے، بے درنگ اچھی کہہ سکتا ہوں،چاہے وہ میرے دشمن کی جانب سے ہی کیوں نہ ہو۔
محبت کے ساتھ


محمدحمیدشاہد


اسلام آباد : ۶۱ اپریل ۸۰۰۲

محمد عمر میمن

برادرم حمید شاہد،
تسلیمات۔
”آپ“ لکھ کر میں آپ کی فراوانیِ اظہار پر پابندی لگانے کا خواہش مند نہیں تھا۔ بس بچپن سے ایک عادت پڑی ہوئی ہے جسے اس عمر میں ترک کرنے کے لیے ایک نئی عادت ڈالنی پڑے گی۔ اس ”آپ“ کے پیچھے وہی محبت اور وفور تھا جو آپ کے ”تم“ سے جھانک رہا تھا۔ موجودہ خط میں آپ کچھ اس طرح سمٹ گئے ہیں کہ مجھے اپنے پر افسوس ہونے لگا۔ بھئی آپ مجھ پر یہ ظلم نہ کریں۔ میں نے کب لکھا تھا کہ مجھے ”تم“ سے مخاطب نہ کیا کریں۔ سو آپ وہی کریں جس کے عادی ہیں اور جس میں اپنا اظہار خلوص و محبت سے کر سکتے ہیں، اور میں وہی پیرایہ اختیار کروں گا جس کا عادی ہوں۔ لیکن اس کے پیچھے اپنے بارے میں نہ کوئی زعم ہے نہ زبردستی اپنی عزت کرانے کا شوقِ فضول۔ دراصل اپنی عزت آدمی خود کرتا ہے، دوسروں سے کروانے پر اصرار میرے حساب سے شوقِ خود نمائی کا ہی ایک مذموم شاخ سانہ ہے۔ سو میرے بھائی، آپ بہرِ خدا مجھے شرم سار نہ کریں۔ سچ پوچھیے تو مجھے آپ کا خط بہت اچھا لگا تھا۔ آپ اپنے سے قریب نظر آئے۔ اب آپ خواہ مخواہ فاصلہ پیدا کرنے کے درپے ہو رہے ہیں۔ مجھے آپ کا میری کاوشوں کا مطالعہ اتنے انہماک سے کرنا اور ان سے عملی طور پرکچھ اخذ کرنا اتنا چھا لگا تھا کہ میں نے سوچا کہ کیوں نہ آپ کو یوسا کے چند اور خط بھجوادوں۔ کتاب جانے کب چھپے گی، اور یہ بھی طے نہیں کہ کبھی چھپے گی بھی۔ اور نہ یہ معلوم ہے کہ اس کی اگلی قسطیں کب اور کہاں نکلیں گی ۔ اگر آپ چاہیں تو بھیج سکتا ہوں۔ اور کیا لکھوں۔ اچانک ایک تعطل کی سی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔ اسے بس اب آپ ہی دور کرسکتے ہیں۔


محبت کے ساتھ


آپ کا


محمد عمر میمن


میڈیسن : ۶۱ اپریل ۸۰۰۲

4: زندگی ‘ عمومی سچ ‘تخلیقی عمل اورتنقید


زندگی ‘ عمومی سچ ‘تخلیقی عمل اورتنقید

محمد حمید شاہد

پیارے عمر میمن
:آداب
یہ ”آپ“ والی کہانی تو میرے بچپن سے بھی جڑی ہوئی ہے مگر معاملہ یوں ہے بھائی کہ لکھتے ہوئے قلم اَپنے راستے پر چل کر آزادی خود حاصل کر لیتا ہے ۔ کم از کم میرے ساتھ تو یہی ہوا ہے۔ میں شاید کسی کو ملتے ہوئے اور،سامنے آتے ہوئے، اُس کے لیے احترام کے سارے صیغے استعمال کروں گا کہ یہی میری تربیت کا تقاضا ہے مگر لکھتے ہوئے اور خصوصا ً ایسے شخص کو،کہ جس سے کوئی ادبی قضیہ زیر بحث لانا مقصود ہو، قلم اپنی روش پر چل نکلتا ہے ۔ چلو، اَچھا ہوا ‘ تم نے کم از کم اِس باب میں مجھے آزادی دِے دِی ۔ جب کبھی ملاقات ہوئی تو” آپ ،آپ“ کی خوب تکرارسے ”تم“ کی ناس ماردوں گا کہ شاید یوں ازالہ ہوجائے ۔ (کیسا ہے؟ ایک ایسے آدمی سے آئندہ کی ملاقات کا تصور، جس سے اب تک کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ اوراس سے ایک وعدہ، جانتے ہوئے بھی کہ اس کا امکان زیادہ ہے‘ یہ ملاقات زندگی بھر نہ ہوگی۔) تم نے یوسا کے مزید خطوط بھیجنے کی بات کی ہے ۔ بھئی مجھے اِنتظار رہے گا۔ بس یوں ہے کہ انہیں ایک ایک کرکے بھیجتے رہو۔ میں لطف لے لے کر پڑھتا رہوں گا۔ رہ گئی بات ان پہلے دو خطوط کی تو یہ مجھے یوں اچھے لگے ہیںکہ ایک مدت کے بعد مجھے تخلیقی عمل کے ساتھ جڑی ہوئی تنقید پڑھنے کا موقع ملا ہے ۔ تم تو جانتے ہی ہو کہ ِادھر ایک مدت سے تنقیدی تھیوریوں نے ایسا یبوست زدہ ماحول بنایا ہوا ہے‘کہ تخلیقی عمل ایک پس ماندہ سی شے لگنے لگا ہے ۔ جب تخلیق کا تصور محض ایک تحریر اور متن کے محدود تصور سے آگے نہ بڑھ سکے تو اس طرح کے سانحات کا ہوجانا لازم ہو جاتا ہے۔ پچھلے دنوں تنقید کی ایک کتاب جو لگ بھگ پانچ سو صفحات پر پھیلی ہوئی تھی،پڑھنے کا موقع ملا۔ اس کے مقدمہ کی پہلی سطر پڑھو گے تو خواہش ہوگی اپنے جبڑوں کو اوپر نیچے اُچھل جانے دو کہ حلقوم میں آیا ہوا قہقہہ باہر نکل سکے :”تنقید کو اکثر تخلیق کے مقابل رکھ کر سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اِس کوشش کا نتیجہ تنقید کے حق میں عام طور پر اَچھا نہیں نکلا۔“ عجب ہٹ دھرمی ہے بھئی کہ معاملہ تو تم ادبی تخلیق سے کرنے چلے ہو اور اِس سے بچ نکلنے کا ارادہ بھی رکھتے ہو۔ تم یقین نہیں کرو گے مگریہ واقعہ ہے کہ پوری کتاب پڑھ لینے کے بعد ایک تخلیق کار کی حیثیت سے مجھے شدید مایوسی ہوئی تاہم میں نے ہمت کرکے اِس موضوع کی درجنوں کتابوں کا مطالعہ کرلیا ہے اوراب اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اِس طرح کے مباحث لسانی فلسفے کی ذیل میں تو رکھے جا سکتے ہیں، حتیٰ کہ ایسی سرگرمیوں میں بھی شمار کیے جاسکتے ہیں جو ادب کی بھید بھری دنیا کے اردگرد ہوتی رہتی ہیں مگر انہیں تخلیقی عمل سے کوئی علاقہ نہیں ہوتا۔دیکھو ‘ وہ لوگ جو اپنی تخلیقی عمر گزار چکے ہیں ‘وہ اس طرح کی بانجھ مشقت میں پڑیں تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ بے کار مباش کچھ کیا کر؛”نیفہ “اُدھیڑ اور سیاکر ‘کے مصداق ‘اِن کے پاس کرنے کو کچھ اور نہ ہوگامگر تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اس تنقیدی الجھیڑے میں پڑ کر ہمارا ایک آدھ ایسانوجوان بھی ضائع ہو رہا ہے‘جس کی صلاحیت اور محنت کو دیکھ کر رشک آتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ بہت کچھ کر لینے پر قادر ہے مگر تنقید کے اس التباس میں پڑ کر ضائع ہوتے دیکھتا ہوں تو طبیعت پھیکی پڑتی ہے ۔ میں،ان ساری کتابوںپر جو تنقیدی تھیوریوں کے بیان پر ہی تمام ہو جایا کرتی ہیں، یوسا کی باتوں کو ترجیح دینے پر خود کو مجبور پاتا ہوں تو شاید اس کا سبب یہ ہے کہ میرے لیے تخلیقی اسلوب حیات کو اپنا لینا، محض ادبی کارکن ہونے پر مقدم ہو گیا ہے۔ میں اسی اسلوب حیات کی بات کر رہا ہوں جس کی طرف یوسا نے پرلطف اشارے کیے ہیں۔ یہ اسلوب حیات کیوں کر اِختیار کیا جاتا ہے۔ یہ سوال بجا طور پر بہت اہم ہوگیا ہے ۔ یعنی لکھنے کی تاہنگ اور وہ بھی ان موضوعات پر جو لکھنے والے کے اپنے لہو کے ساتھ رگوں میں گردش کر رہا ہو۔ یہ لہو میں گردش کا معاملہ سلجھانے کے لیے مجھے وہ مثال یاد آرہی ہے جو کل ہی حلقہ ارباب ذوق،اسلام آباد ،کے اجلاس میں ایک افسانے پر بات کرتے ہوئے سامنے آئی تھی ۔ جو افسانہ پیش ہوا اس میں مواد کی فراوانی تھی، موضوع بھی بڑی وضاحت سے بیان ہوا تھا، وہ بیانیہ بھی برا نہ تھا مگر وہ اسلوب حیات والی بات یہاں نظر نہ آتی تھی۔ ایسے میں کہا گیا کہ اس افسانے کی مثال ایسے ہی ہے جیسے آپ میں سے کسی نے بازار کے بیچ مگر کچھ دیر پہلے چلنے والی گولی کی بابت سنا ہو۔ اور آپ کو یہ بھی بتایا گیا ہو کہ چار آدمی قتل ہوگئے تھے۔ آپ کو شدید دکھ ہوگا ۔ اور چوں کہ آپ نے وہاں اپنی آنکھوں سے سڑک پرگرا ہوا خون بھی دیکھا تھا لہذا اس دُکھ نے آپ کو شدید متاثر بھی کیاہوگا ۔ آپ گھر آگئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس واقعہ کو لکھ ڈالیں۔یوں ایک کہانی بن جاتی ہے ۔ اس طرح بننے والی کہانی کو اس کہانی سے مماثل قرار دیا گیاجو حلقہ ارباب ذوق میں تنقید کے لیے پیش کی گئی تھی اور پھر کہا گیا کہ اب ذرا قتل والے واقعہ کے آخری جملے میں تبدیلی کر لیں ۔ گھر پہنچنے کے بعد آپ پر کھلتا ہے کہ مرنے والوں میں ایک آپ کا بھائی ہے۔ لیجئے اب آپ لکھنا بھی چاہیں گے تو اس پہلے والی سہولت کے ساتھ نہ لکھ پائیں گے ۔ وہ سانحہ جو باہر تھا اب آپ کے بھیتر میں اُترگیا ہے ۔ جب ایک ضروری توقف کے بعد آپ اسے کہانی کی صورت لکھ پانے کے قابل ہوں گے تو موضوع آپ کے لہو میں شامل ہوجائے گا۔ میں سمجھتا ہوں فکشن اور بطورخاص افسانے میں یوں کسی موضوع کے ساتھ جڑ جانا اور اس میں ایک تخلیقی توقف کاالتزام ‘بہت اہم ہوتاہے۔ میں اسے اس عمل سے مختلف سمجھتا ہوں جس میں لکھے جانے والے کردار کی کھال میں بیٹھ جانے کی بات کی جاتی ہے۔ اس لیے جان من کہ محض دوسروں کی کھال اوڑھ کر نظارہ کرنے والا اس کردار کی روح میں نہیں اتر سکتا ۔ اب اگر ہم تخلیقی عمل کی پراسراریت سے اپنی زندگی کو جوڑنے کے لائق ہوگئے ہیں تو ہمیں یوسا کی ”ادبی ووکے شن“ والی بات سہولت سے سمجھ آسکتی ہے ۔ اس تمہید کے بعد میں یہ کہنا چاہوں گا کہ تم نے جہاں جہاں اسے ادبی” شغل“ لکھا ہے وہاں وہاںمیں اَپنے اَندر بے اِطمینانی سی پاتا رہا ہوں ۔ یوسا کی یہ بات بھی مان لینے کے لائق ہے کہ ادبی ووکے شن محض انتخاب سے آدمی کا مقدر نہیں ہوتا اور نہ ہی محنت اور صرف محنت سے یہ ہاتھ آتا ہے۔ انتخاب اور محنت اس باب میں دوسری منزل میں آتے ہیں جب کہ اولیت داخلی میلان کو حاصل ہے ۔ مجھے یہاں ہنری جیمس کی کہی ہوئی ایک بات یاد آتی ہے جس کے مطابق ”تجربہ کبھی محدود نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ مکمل ہوتا ہے“۔ وہ لکھنے والے جو محنت اور تجربے سے ہی کام چلانا چاہتے ہیں اور انہیں لکھنے کو اسلوب حیات بنا لینے پر اس لیے قدرت نہیں ہے کہ ان کا داخلی میلان اس نہج پر خلق ہی نہیں ہوا ؛وہ کہانی کو محض واقعے کی سطح پر لکھنے پر قادر ہوتے ہیں۔ جب کہ داخلی میلان رکھنے والے کے لیے یہ تجربہ جو بظاہر نامکمل ہوتا ہے اس کی حسیات کے اندر دور تک تحلیل اور خوب گہرا جذب ہوجاتا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ میری بات طول پکڑ گئی ہے مگر اس کا کیا کروں کہ مجھ پر اپنی بات مکمل کرنے کا جنون سوار ہوچکا ہے ۔ میں سوچتا ہوں جن دنوں میں نئی تنقید پڑھ رہا تھاتو مجھ پر ایسا دورہ کیوں نہ پڑا تھا ۔ کیوں ؟ آخر کیوں؟ مجھے صاف صاف یاد بھی نہیں ہے کہ تب میں نے کیا پڑھا تھا؟ ہاں بس اُلجھنا یاد ہے۔ رولاں بارتھ کے مصنف کی موت والے مضمون نے بھی مجھے کم نہیں اُلجھایا تھا۔ ادھر دیکھو یوسا کو پڑھ کر ایسا نہیں ہوتا کہ وہ فکشن کے موضوع کے حوالے سے کتنی پرلطف اور روشن روشن باتیں کر رہا ہے۔ رولاں بارتھ نے تو سرے سے موضوع کو مانا ہی نہیں تھا ۔ اس کے ہاںموضوع کے غیاب کا دعویٰ ملتا ہے ۔ میں اِس مضحکہ خیز دعویٰ کو فلسفیانہ موشگافی سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا ۔ بھلاتم خود ہی کہو، ایسی بے تکی صورت حال پر کیسے ایمان لایا جا سکتاہے جس میں ”تحریر ایسی مبہم ‘مخلوط اور زاویہ مستقیم سے گریزاں وسعتِ امکانی ہوجاتی ہے جہاں موضوع غائب اور پہچان ختم ہوجاتی ہے۔“ چوں کہ بارتھ نے مصنف کومار کر اس کے تخت پر قاری کو بٹھانا تھالہذا اس نے اس منفی بنیاد پر مصنف کو قربان کردیا۔ (اپنے انتظار حسین نے اس حوالے سے ایک خوب تبصرہ کیا تھا۔ دُکھ جھیلیں بی فاختہ اور انڈے کوے کھائیں۔ )میں نے اپنے ادبی مطالعے میں اس سے زیادہ گمراہ کن بیان نہیں پڑھا اور تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ِاس مجہول بیان نے ہمارے ہاں ایک ایسی بھیڑ کو گمراہ کیا ہے جو ہل لا لا لا کرکے تنقید پر ٹوٹ پڑی ہے۔ کچھ اس بے ڈھب انداز میں کہ پوری ربع صدی ہو چلی ہے اس نے مصنف کیا، تخلیق پاروں کو بھی ڈھنگ سے دیکھنا پسند نہیں کیا ہے۔ یوسا نے میرے اندر کے دُکھ اور غصے کے لاوے کوپھوٹ بہنے کا راستہ دِے دِیا ہے تو یوں ہے کہ میں رولاں بارتھ کو مندرجہ ذیل بیانات بدل دِینے کا مشورہ دِے رہا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ فکر میں اس ترمیم کے بغیر تخلیقی بھید کو سمجھا ہی نہیں جاسکتا:
رولاں بارتھ کے بیانات*
مجوزہ ترمیم کی صورتیں**
=لکھنا دراصل ہر نقطہ آغاز کا ختم کردیا جانا ہے۔*

=لکھنا عدم کو وجود میں لانا اور نامکمل کو تکمیل کی طرف لے جانا ہے ۔**
=تحریردر حقیقت وہ مبہم، مخلوط اور زاویہ مستقیم سے گریزاں وسعتِ امکانی ہے، جہاں ہمارا موضوع ختم *ہوجاتا ہے اور اس منفیت کی ابتدا خود تحریر کرنے والے سے ہوتی ہے۔

=ادبی تحریر درحقیقت ابہام سے تخلیقی ابہام، اکہرے پن سے معنیاتی انضباط اور خط مستقیم سے وسعت کی **جانب رواں وہ وسعت امکانی ہے جہاں ہمارا موضوع قائم ہوجاتا ہے اور اسی اثبات کی ابتدا خود تحریر کرنے والے سے ہوتی ہے۔

=مصنف اپنی موت کی طرف بڑھتا ہے؛تحریر کا آغاز ہوتا ہے۔*

=مصنف اپنی شناخت مستحکم کرتا ہے؛تحریر کا آغاز ہوتا ہے۔**
=یہ مصنف نہیں زبان بولتی ہے۔*

=زبان گونگی ہوتی ہے یا پھر معنی کی سطح پر مڑھی ہوئی جھلی کی طرح، یہ مصنف ہی ہے جو اسے **ڈھنگ سے بولنا سکھاتا اور اس پر معنیاتی امکانات کھولتا ہے۔
=تحریرچوں کہ مسلسل معنی فرض کرتی رہتی ہے لہذا اس میں سے پہلے معنی خارج/معطل ہوتے رہتے *ہیں۔

=ادبی تحریرچوں کہ مسلسل معنی جذب کرتی رہتی ہے لہذا اس کے اندر معنیاتی سلسلہ قائم ہو جاتا ہے **یوں پہلے سے موجود معنی خارج نہیں ہوتے ان میں توسیع اور نمو ہوتی رہتی ہے ۔
=قاری کی پیدائش،مصنف کی موت کی قیمت پر ہونی چاہیے۔=قاری وہ راس نشین ہے جو مصنف کی حیات میں توسیع اور اس کی پہلی سے موجود شناخت کی نموکا وسیلہ بنتا ہے ۔
لو، پیارے اَب لگتا ہے میرا اپھارہ کم ہوا۔ اب میں سہولت سے یوسا کی اس بات کی طرف لوٹ سکتا ہوں جو اس نے اسٹرپر کے حوالے سے سمجھانے کی کوشش کی تھی۔ یوسا نے کتنی سہولت سے یہ سمجھادیا ہے کہ اسٹرپر میں تماشاگر ایک ایک کرکے اپنے کپڑے اتارتا(کاش یہاں” اتارتی“ ہوتا) چلا جاتا ہے جب کہ ناول میں یہ تماشا معکوس شکل میں ہوتا ہے۔ میں نے اس بات کو یوں سمجھا ہے : ایک عام تحریر، جو لغاتی معنی کے جبر سے نہیں نکل سکتی اسٹرپر کی مثل ہے۔ ادھر الفاظ ادا ہوتے ہیں ادھر ایک ایک کرکے جسم پر سے کپڑے اترتے چلے جاتے ہیں ۔ جملہ مکمل ہوتے ہی معنی مکمل طور پر ننگے ہوکر سامنے آجاتے ہیں ۔ مجھے یہاں پشکن کا جملہ یاد آتا ہے ؛ ”آہ ننگی حسین نہیں ہوتی‘ کھٹکتی ہے“ تو یوں ہے میرے بھائی ادب میں یہ ننگا پن نہیں چلتا ۔ ننگے بدن کو ایسامہین لباس پہنائے چلے جانا ہی وہ تخلیقی بھید ہے جس سے چھلکتے بدن کی ہر جھلک، ایک نئی اشتہا کو مہمیز کرے ۔ اب تم ہی کہو یہ نئی جھلک جو تم دیکھو گے، بھئی اسی مہین لبادے سے، یا پھر جن قوسوں، گولائیوں اور گداز کو دیکھ رہے ہو کیا یہی مصنف نہیںہے؟ بھئی یہی تو وہ جادو گر ہے جو مر کر بھی نہیں مرتا کہ اس نے تمہارے (قاری کے)اندر ایک اشتہا اور لذت رکھ دی ہے۔ جی،فکشن کے باب میں یوسا کی ایک بات سے اختلاف کا موقع نکل آیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں، اس کی بات کہ ” فکشن ایک ایسی چیز ہے جو سچی نہیں تاہم سچی ہونے کا سوانگ بھرتی ہے “ بھی لائق ترمیم ہے ۔ اس باب میں ایک جملہ میں تواتر سے لکھتاآیا ہوں اسی کو نقل کر رہا ہوں ۔ ”فکشن وہ عظیم سچائی ہے جو زندگی کے عمومی سچ پر حاوی ہوجاتی ہے۔“ یوسا نے درست کہا تھا: خط کے لیے جچاتلا اِختصار ضروری ہوتا ہے۔ میں کہاں سے کہاں نکل گیا ۔ معذرت قبول کرو ۔

محبت کے ساتھ

محمدحمیدشاہد

اسلام آباد :۹۱ اپریل۸۰۰۲

محمد عمر میمن

برادرم حمید شاہد

السلام علیکم۔

بے حد مفصل خط ملا۔ شکریہ۔ میری تو سمجھ میں نہیں آتا کہ جواب میں لکھوں تو کیا لکھوں۔ ہنوز آپ کے باریک بین مطالعے اور جس عقیدت اورسنجیدگی سے آپ ادب کے سامنے دو زانو ہوکر بیٹھتے ہیں اسی پر حیرت کررہا ہوں۔ کاش ہمارے بیش تر پڑھنے اور لکھنے والوں کو آپ کا چلن آجائے! مجھ پر تو آپ کے وسیع مطالعے کا اچھا خاصا رعب جم گیا ہے۔ آپ کے مقابلے میں بہت کم پڑھا لکھا آدمی ہوں۔ اور یہ میں مشرقی کسرِ نفسی کے کسی دورے کی گرفت میں آکر نہیں لکھ رہا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ میرا مطالعہ کافی محدود ہے۔ پھر تنقید ونقید مجھے فطری طور پر بھاتی بھی نہیں۔ خیر، اب ایسا بھی نہیں کہ تنقید سے بالکل ہی استغنا برتتا ہوں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ تنقید بھی اسی قسم کی پسند آتی ہے جس میں تخلیقی تجربے کا نچوڑ ہو۔ یوسا کے خطوط مجھے اسی لیے پسند آئے تھے۔ رولاں بارتھ قسم کی مخلوق مجھ سے ہضم نہیں ہوتی۔ سو آپ نے اگر مجھ سے اپنے اٹھائے ہوئے نکات کے سلسلے میں کسی وافی و شافی بحث کی توقع کی تھی تو آپ کو مایوسی ہوگی۔ مجھے اس کا افسوس ہے، لیکن میں وہی ہوں جو ہوں۔ اپنے آپ کو بدلنا چاہوں تو بھی نہیں بدل سکتا۔ اگر کوشش کی تو منہ کی کھانی پڑے گی۔ اس عمر میں آپ مجھے رسوا ہوتا ہوا دیکھ کر خوش تو نہیں ہوسکیں گے۔ مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ آپ کو بھی یوسا کی باتیں پسند آئیں۔ اس سے بہت ہمت بندھی۔ آپ نے کردار کی روح میں اتر جانے والی بات خوب کہی ہے۔ بالکل، ایسا ہی ہونا چاہیے۔بھائی میں خود بھی ووکیشن کے لیے ”شغل“ کے استعمال سے مطمئن نہیں ہوں۔ سلیم الرحمٰن گواہ ہیں، میں نے ان سے بھی اس سلسلے میں مدد لی تھی۔ چکر یہ ہے کہ اول تو میری اردو بے حد ناقص ہوچلی ہے، اور پھر بعض اوقات اردو میں مناسب مترادفات ملتے بھی نہیں۔ بھئی آپ مجھ سے تکلف وغیرہ نہ کیا کریں۔ اگر آپ کو کوئی بہتر لفظ معلوم ہو تو بتائیں۔ یوسا والی کتاب میں یہی ایک لفظ نہیں ہے جس نے مشکل پیدا کی، کئی اور بھی ہیں۔ میں آپ کو اس خط کے ساتھ یوسا کے اگلے تین خطوط بھیج رہا ہوں۔ آپ پڑھیے اور اگر کہیں بہترلفظ مل جائیں تو فوراً مطلع کیجیے۔ احسان ہوگا۔ ایک بات اور: ان پر ایک اور نظرِ ثانی واجب ہے۔ جہاں جہاں دوسری زبانوں سے اسم معرفہ یا عنوانوں کے نام استعمال ہوئے ہیں، وہ اردو میں اپنے ہجوں کے لحاظ سے مستند نہیں۔ میں اس سلسلے میں ایک صاحب سے مدد لینے والا ہوں، اور پھر انھیں درست کروں گا۔ لیکن جہاں تک متن کے ترجمے کا تعلق ہے، میرے خیال میں آپ اس پر کم و بیش بھروسا کرسکتے ہیں۔اب ایک مزے کی بات سنیے: جس دن آپ کا خط ملا اسی دن فرشی صاحب کاخط بھی آیا۔ لکھا کہ پہلے بعض وجوہ کی بنا پر انھیں یوسا کے خط ”سمبل“میں قسط وار چھاپنے میں تامل تھا ، لیکن لوگوں نے پہلے دو خطوں کو کافی پسند کیا ہے اور اب وہ تین خط اگلے شمارے میں اور چھاپنا چاہتے ہیں۔ واﷲ، اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ یہی خط میں آپ کو بھیج رہا ہوں۔ آپ سب سے پہلے پڑھ لیں گے۔ دیکھا آپ نے، دوستی کام آگئی۔ آپ کو یوسا کی اس بات سے اختلاف ہے کہ ”فکشن ایک ایسی چیز ہے جو سچی نہیں تاہم سچی ہونے کا سوانگ بھرتی ہے۔“ میرے خیال میں تو یہ اختلاف کی بات نہیں۔ جہاں تک میں اسے سمجھ سکا ہوں، وہ صرف یہ کہنا چاہتا ہے کہ فکشن تخیل کا کارخانہ ہے۔ اس لحاظ سے اسے حقیقت نہیں کہا جاسکتا۔ لیکن اس کا کمال یہ ہے کہ یہ اپنی قوتِ ترغیب کے زور پر حقیقت نظر آنے لگتا ہے (یا ایک متبادل حقیقت وضع کرتا ہے جو کسی لحاظ سے بھی حقیقی حقیقت سے قدرو قیمت میں کہتر نہیں ہوتی)۔ اصل میں یہ بحث زیادہ تفصیل سے ”قوتِ ترغیب“ والے خط میں ہوئی ہے، اور وہ میں آپ کو بھیج رہا ہوں۔ آپ کا قول بھی اپنی جگہ پر درست ہے: ”فکشن وہ عظیم سچائی ہے جو زندگی کے عمومی سچ پر حاوی ہوجاتی ہے۔“ میں بس ایک لفظ کا اضافہ کروں گا: “کام یاب“ (کام یاب فکشن الخ)۔ اگر یہ اضافہ کرلیا جائے تو پھر قوتِ ترغیب والی بات سمجھ میں آنے لگتی ہے۔آصف فرخی صاحب لکھتے ہیں کہ تازہ “دنیا زاد“ نکل آیا ہے۔ اس میں میراکیا ہوا ایک جاپانی محقق کا ترجمہ شامل ہے۔ ذرا پڑھیے گا۔ مجھے تصوف کی مابعدالطبیعیات سے عشق ہے۔ ہوسکتا ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ عمر بڑھتی جارہی ہے۔ امید ہے کہ آپ بہ خیروعافیت ہوں گے۔

والسلام

محمد عمر میمن

میڈیسن : ۴۲ اپریل ۸۰۰۲

5: فکشن میں اسلوب کا مسئلہ


فکشن میں اسلوب کا مسئلہ

محمد حمید شاہد

پیارے عمر میمن
:آداب
تمہارا خط ملا اور بعد میں یوسا کے خطوط کی اگلی کھیپ ۔ آہا ،تیسرا خط پڑھتے ہی مزا آگیا ۔ اس باب میں مجھے جوکچھ سوجھ رہا ہے تمہیں بتانا چاہتا ہوں ۔ پہلے تو اس مہربانی کا فوراً شکریہ قبول کرو کہ تمہاری بدولت میں یوسا کو پڑھ رہا ہوں اور پھر بتانے دو کہ مجھے واقعی پورے تخلیقی عمل کو اس ڈھب سے دیکھنے میں مزا آرہا ہے۔ رہ گئی رُعب جمنے یا جمانے کی بات، تو خدارا مجھے اِس گھناﺅنے جذبے سے الگ ہی رکھو کہ میں تو اِس سارے بھید کو سمجھنے کے جتن کر رہا ہوں جو ایک تخلیق کارکے نصیب میں لکھ دِیا گیا ہوتا ہے۔ میں اسے نصیب کے ساتھ اس لیے نتھی کررہا ہوں کہ تخلیقی عمل کے ساتھ جڑنا جس کی سرشت میں لکھا ہوا نہیں ہوتا وہ محض مشاہدے، مشقت اور ریاض سے، اسے اس سطح پر حاصل نہیں کر سکتا جسے تخلیقی وفور کہتے ہیں۔ تخلیقی عمل جب زندگی کرنے کے آہنگ سے جڑ جاتا ہے تو یہی اس تخلیق کار کا اسلوب ہوجایا کرتا ہے۔ دوسرے معنوں میں تم کہہ سکتے ہو کہ ہر حقیقی تخلیق کار کااَسلوب خود بہ خود اُس کی زندگی بِتانے کے قرینے سے پھوٹتا ہے۔ جب کہ کوشش اور ریاض سے دوسروں کی پیروی میں اپنے لیے اسلوب گھڑنے والے اس کوّے کی مثل ہیں جو ہنس کی چال چلناچاہتا ہے اور اَپنی چال بھی گنوا بیٹھتا ہے۔ بات رُعب جھاڑنے سے چلی اور اَسلوب کی طرف لڑھک گئی، مجھے معاف کردینا کہ میں اِس خط کے آغاز میں ہی اِدھراُدھر بھٹکنے لگا ہوں ۔تاہم جو بات میں کہنا چاہتا تھا وہ یوں ہے کہ ایک سچے تخلیق کار کا مسئلہ رُعب کا بوجھ دوسروں پر لادنا نہیں ہوتا ۔ سچ پوچھو تو جو شخص اپنے آپ کو عالم سمجھنے لگے تخلیق کی دِیوی اُس سے رُوٹھ جایاکرتی ہے۔ یہاں معاملہ فکشن کے متن کی تعمیر کا ہے یعنی موجود سچ سے کہیں بڑے سچ کی تعمیر کا معاملہ۔ اس دِیار کے داخلی دروازے پر ”جھوٹوں کا داخلہ ممنوع“ کی تختی لگی ہوئی ہے۔ ہاں تو تم نے لکھا ہے کہ تمہیں تنقید بھی اسی قسم کی پسند آتی ہے جس میں تخلیقی تجربے کا نچوڑ ہو، کیا خوب بات کہی ۔ مجھے تعجب نہیںہوا،اچھا لگا ہے ۔ جس کا یہ چلن ہو وہ تخلیقی عمل سے کٹی ہوئی تنقید کے نام پر اٹھائی گئی بانجھ فلسفیانہ اور مہمل تحریروں کو کیوں کر پسند کرے گا اور اس کارِزِیاں میں اَپنا وقت کیوں برباد کرے گا۔ مجھے یوسا کے خطوط نے مشتعل کیا تھا اور وہ تندوتیزسوالات جو مجھے بے چین رکھے ہوئے تھے، میں نے تمہاری طرف لڑھکا دِیے ۔ میں اب تمہارا اور اپنا وقت اس قسم کے حوالوں اور سوالوں سے برباد نہیں کروں گا۔ ایک ہی جست میں یوسا کی طرف آتا ہوں؛ لو آگیا۔ تم نے”کردار کی روح میں اُتر جانے والی“ میری بات کو لائق اِعتنا جانا، مجھے حوصلہ ہوا۔ رہ گیا یہ قضیہ کہ”ووکیشن‘ ‘ کے لیے” شغل“ نہیں تو کون سا لفظ ہوناچاہےے؟ بھئی سچ پوچھو تو میں تراجم کی طرف راغب ہوا تھا اور فوراً اِدھر سے اِس لیے بھاگ نکلا کہ مجھ میں وہ الفاظ جو بطور اِصطلاح اِستعمال کیے جارہے ہوتے ہیں،اُن کایک لفظی یا کسی متبادل ترکیب میں ترجمہ کرنے کا سلیقہ نہیں تھا۔ میں نے دیکھا ہے کہ ہمارے ہاں ترجمہ کار اِصطلاحات کا ترجمہ کرتے وقت ترکیب سازی سے اصطلاح وضع کر لیا کرتے ہیں ۔ میں نے تمہارے ہاں یہ صلاحیت دیکھی ہے ۔ محمدسلیم الرحمن کے ہاں بھی ایسا چلن پایاگیا ہے،جو مجھے اچھا لگتا ہے ۔ اس باب میں، میں بہت اناڑی ہوں ۔ مجھے غلط یا صحیح یہ تو سوجھ جاتا ہے کہ یہاں کوئی اور لفظ ہونا چاہیے؛ مگر کونسا ؟ میں اس باب میں بُری طرح ناکام ہوجاتا ہوں۔ مثلاً یوسا کی طرف سے اِصطلاح کے طور پر برتے گئے اسی”ووکیشن“ کولے لو۔ اس کے ایک معنی”شغل‘ ‘کے بھی ہیں ۔ مگر یوسا نے جس طرح اِس اِصطلاح کے لیے فضا بنائی ہے اس میں اِس کے معنی نہ تو محض شغل کے رہتے ہیں، للک کے اور نہ ہی پیشہ اور کسب کے، کہ یہ اِصطلاح ایک ہی وقت میں لکھنے والے کی قدرت، طبعی میلان اور دھیان کے اِرتکاز کی طرف اِشارے کرتی ہے۔ یہ جان کر مجھے اچھا لگا کہ” سمبل“ میں یوسا کے خطوط شائع ہوتے رہیں گے ۔ بھئی میں تو حیران تھا کہ اس باب میں پہلے تامل کیوں کیا گیا تھا ۔ مجھے واقعی یوسا کی اس بات سے اِختلاف ہے کہ فکشن سچی ہونے کا سوانگ بھرتی ہے ۔ اِس کا جواز میں بتا چکا ہوں۔ تاہم میں اس باب میں اضافہ کرنا چاہوں گا کہ فکشن کا یہ فریب بھی لگ بھگ ویسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ حضرت غالب کے نزدیک ہستی کے فریب کا تھا
ہستی کے مت فریب میں آجائیو اسد


عالم تمام حلقہ ءدام خیال ہے
دیکھو! یہاں غالب نے جس حقیقت کو بیان کیا ہے وہ موجود حقیقت سے کتنی بڑی ہو گئی ہے۔ پیارے،یہی معاملہ فکشن نگار کی کائنات کا ہے۔ کہنے کوجھوٹی مگر اپنی اصل میں کہیں بڑی حقیقت سے جڑ جانے والی۔ مجھے لفظ ”سوانگ“ پر اعتراض ہے ۔ دیکھو کہ اتنی بڑی کائنات جسے ماہرین طبیعیات ٹھونک بجا کر حقیقی قرار دے چکے ہیں مگر جو اپنے مرزا نوشہ کوفریب لگتی ہے ؛یہ بھی تو تخیل کے ایک کارخانے سے پھوٹی ہے ۔ اب یہ تمہارے اور میرے سمیت‘ ہے بھی اور نہیں بھی۔ مگر ہم اپنے وجود کو جس حد تک دریافت کرتے یا جس حد تک اس کائنات کے بارے میں اپنا گمان باندھتے چلے جاتے ہیں اتنا اتنا ہم اپنے آپ پر اور کائنات ہم پر کھلتی چلی جاتی ہے۔ فکشن کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے ۔اس کے ذریعہ واقعہ کی ایک صورت بیان ہو رہی ہوتی ہے اور معنیاتی سطح پر، متن کی باطنی ساخت میں اس سے کہیں بڑی حقیقت تخلیق ہو رہی ہوتی ہے ۔ ڈیپ اسٹریکچر میں ”بڑی سچائی“ رکھے بغیر واقعہ کو فکشن میں منقلب کیاہی نہیں جاسکتا۔ تم درست کہتے ہو اسے حقیقت نہیں کہا جاسکتا۔ ہاں اسے محض حقیقت کہنا نامناسب ہوگا۔ میں نے کہا نا یہ معلوم حقیقت سے بڑی حقیقت ہوتی ہے۔ بالکل یوں جیسے شجر پھوٹتا بیج ہی سے ہے مگر اس کی جڑیں زمین میں گہرائی تک اُتر جاتی ہیں اور شاخیں آسمان کی وسعتوں کو چھونے لگتی ہیں ۔ میں کبھی کبھی فکشن کو اسی شجر طیب سے تعبیر کرتا ہوں اور فکشن کی تخلیق کو عمل خیر سے جوڑ لیا کرتا ہوں کہ کائنات کی حقیقتوں اور سچائیوں کی تفہیم کے جتن کرنا اور فرد کو اس کی باطنی مسرت سے ہم کنار کرنا عمل خیر ہی توہے۔ یوسا کا یہ خط بھی پہلے دوخطوط کی طرح دل چسپ ہے ۔ میں ان کے نشے میں ہوں تاہم آگے بڑھنے سے پہلے جس ترکیب نے مجھے اُلجھن میں ڈالا ہوا ہے اُس کی طرف تمہارا دِھیان چاہوں گا۔ یہ ترکیب ہے ” قوّتِ ترغیب“۔ میں نہیں جانتا کہ جس لفظ سے تمہارے ہاں یہ ترجمہ ہو کر آئی ہے اس میں سے ”راسخ ہونے “اور” دِل نشین ہوجانے“ کے معنی نکلتے ہیں یا نہیں مگر یوسا کی تحریرسے مجھے یوں لگتا ہے اُس اصطلاح میں کہ جو فی الاصل اُس نے برتی ہوگی،فن پارے کے اندر ترغیبی قوت سے کہیں زیادہ فکشن کی وہ قوت مراد ہو گی جو قاری کو اپنے عظیم سچ پر یقین لانے پر مجبور کر دیا کرتی ہے۔ دراصل ترغیب کی قوت تخلیقی تحریروں سے کہیں زیادہ تبلیغی تحریروں یا مقصدی مضامین کا وصف ہوتی ہے۔ چوں کہ”ترغیب“ کے لفظ میں لالچ دینے، کسی کام پر آمادہ کرنے کے معنی شامل ہوتے ہیں جو قوت کے ساتھ جڑ کر مزید شدید ہوجاتے ہیں لہذا میں اس عمل کو جس میں قاری فکشن کے سچ پر ایمان لے آیا کرتا ہے، قوت ترغیب والی اصطلاح سے تعبیر کرنے میں اپنی طبعی رجحان کی وجہ سے رکاوٹ محسوس کر رہا ہوں۔ اس باب میں بھی، میں وہی مثال دینا چاہوں گا جو یوسا نے دی تھی؛ یعنی وہی ”دی میٹا مورفوسِس“والی ۔ ایک معمولی سے مسکین دفتری گرے گور سَمسا کی کہانی جس کی ایک نفرت انگیز لال بیگ میں کایا کلپ ہو جاتی ہے ۔ تم نے کاکروچ کوتل چٹّے سے تعبیر دی، یقیناً اس لفظ سے رات کو نکلنے والے کئی پتنگے مراد ہو سکتے ہیں مگر لال بیگ کو دیکھتے ہی جو کراہت کا گولا پیٹ سے حلقوم کی سمت اٹھتا ہے،تل چٹّا پڑھ کر نہیں اُٹھتا۔ بظاہر یہ کہانی کتنا بڑا جھوٹ ہے اور بہ قول یوسا مضحکہ خیز بھی ہے۔ تاہم کافکا نے جس طلسماتی انداز میں اِسے لکھا وہ ہمیں اس پر راغب نہیں کرتا کہ ہم بھی اس تکلیف سے گزریں بل کہ ہم گرے گورسمسا کے ساتھ ساتھ اس ذِلت سے گزرنے پر (چاہتے، نہ چاہتے ہوئے بھی) مجبور ہوتے ہیں ۔ گویا یہ ساری واردات ایک بڑاسچ بن کرہمارے بھیتر میں اُتر جاتی ہے۔ دیکھو، یہاں یوسا نے بھی گرے گور سَمساکی ہول ناک دُرگت پر تہِ دل سے ”یقین“ کرنے کی بات کی ہے۔ اس سے یگانگت محسوس کرنے اور اس کے ساتھ ساتھ تکلیف اٹھانے، اسی مایوسی سے اپنا دَم گھٹنے کی بات کی ہے ۔ قاری کے دفاعی نظام کو یوں توڑ دینے کا معاملہ کہ ایمان لانا یا تسلیم کر لینا لازم ہو جائے قوت ترغیب کے نہیں بل کہ متن کی تاثیر کے باب میں آئے گا۔ اِسی تاثیر کا اِعجاز ہے کہ ہم گرے گور سَمسا کی کہانی پر یقین کرلیتے ہیں۔ یوسا نے درست لکھا ہے کہ کافکا میں کسی حقیقت یا پھر غیر حقیقی صورتحال کو ایک بڑی حقیقت میں منقلب کرنے کی صلاحیت تھی؛ لفظوں، خاموشیوں، انکشافات، تفاصیل، معلومات کی تنظیم اور بیانیہ روانی کے ذریعے،جس نے قاری کے دفاعی نظام کو منہدم کر دیااوراس نے ایک ایسی کریہہ صورتحال کے مقابلے میں اپنے تمام ذہنی تحفّظات کو پسپا ہونے دیا۔ایسے میں اِنتظار حسین کی کہانی ”کایا کلپ“ کا تذکرہ کرنابے جا نہ ہوگا۔ اِنتظار حسین نے اس کہانی کو۷۶۹ ۱ءمیں شائع ہونے والے اپنے افسانوں کے مجموعے ”آخری آدمی“ میں شامل کیا تھا۔ کہانی میں کافکاکا گرے گور سمسا‘ شہزادہ آزاد بخت ہو گیاہے اور کافکاکے لال بیگ کو مکھی بنالیا گیا ہے۔ یاد دِلادوں کہ اس کتاب کا دیباچہ سجاد باقر رضوی نے لکھا تھا۔ اس کا دعویٰ تھا:”افسانہ نگار نے داستان کی علامت کو نئے مفاہیم دینے کی کوشش کی ہے۔“ انتظار حسین کی اس کہانی میںشہزادہ آزاد بخت مکھی کی صورت صبح کرتا ہے اور کہانی جوں جوں آگے بڑھتی ہے توں توں مکھی کی جون سے واپسی کا مرحلہ شہزادہ آزاد بخت پر کٹھن ہوتا چلا جاتا ہے ۔ حتیٰ کہ وہ رات آجاتی ہے جب شہزادی نے اسے مکھی بنائے بغیر تہ خانے میں بند کر دیاتھا۔ دیوجو پہلے آدمی کی بو پاکر ”مانس گند، مانس گند“ چلاتا قلعے میں داخل ہوتا تھا، خاموش رہا کہ اب وہاں کوئی آدمی نہیں تھا۔ ےہ وہی رات بنتی ہے کہ جس کے بعد کوئی بھی منتر شہزادے کو مکھی سے آدمی کی جون میںنہ لا سکا۔ سجاد باقر رضوی کا ےہ بھی کہنا تھا:”ےہ کہانی پڑھ کر آدمی اپنے اندر کی مکھی صاف دیکھنے لگتا ہے۔“مگر میرے ساتھ عجب حادثہ ہوا ہے کہ اسے پڑھنے کے بعد مجھے کافکا کی کہانی کا گرے گور سمساےاد آ گیا ہے۔ انتظار حسین نے اپنے ہاں کی کہانیوں اور داستانوں سے دیو، شہزادہ اور شہزادی کو لے کر جو منظر نامہ ترتیب دیا ہے اس سے جون بدلنے والی کہانی اپنی اپنی سی لگنے لگی ہے مگر مکھی کے روپ میں کایا کلپ کے پیچھے یہاں دو نیتیں کام کر رہی ہیں: ایک خوف کہ دیو جان سے مار ڈالے گا اور دوسری اس کی نظر سے چھپے رہنے کی چال ۔ جب کہ کافکا کی کہانی بہت گہرا وار کرتی ہے۔ ذلت کے ساتھ زندہ رہے چلے جانے کی اذیت والا معاملہ خود بہ خود ہمارے اندر گھس جاتا ہے ۔ اپنے انتظار حسین کے ہاںساری کہانی کو بیانیے کے زور پر منوانے کے جتن ملتے ہیں ۔ یوسا کے خط کی روشنی میں،میں دیکھتا ہوں تو اس کی وجہ بھی سمجھ میں آگئی ہے۔ کافکا نے اپنی کہانی کا ڈیپ اسٹریکچر بنایا تھا ،انتظار حسین نے اپنی کہانی کا محض سرفس اسٹریکچر بنانے پر ساری توانائی صرف کر دی ہے۔ مجھے انتظار کی زبان بہت بھلی لگتی ہے اور اسی نے مجھ سے یہ کہانی بھی پوری توجہ سے پڑھوالی تھی مگر جوں جوں وقت گزرتا گیا اس کی چمک مانند پڑتی گئی اور میں اسے کافکا کی کہانی سے الگ کرکے دیکھنے پر قادر نہ ہوسکا۔ پیارے دوست،میں یوسا کی تائید میںیقین سے کہہ سکتا ہوں کہ فارم،کانٹینٹ اورتھیم کواگر اپنا بیانیہ خود وضع نہ کرنے دیا جائے تو تخلیق میں تاثیر کا جوہر اپنی پوری جولانی نہیں دکھا پاتا۔ ہمارے ہاں ساٹھ کی دہائی کے افسانہ نگاروں نے اپنا اپنا اسلوب بنانے کی باجماعت شعوری کوشش کی۔ انہوں نے ان عناصر کے بہم ہونے کا انتظار کیے بغیر علامت اور تجرید کے نام پر جو لکھا اسے لفظی کرتب بازی سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ اس زمانے کازیادہ تر کام ساختہ ہونے کی وجہ سے تخلیقی تاثیر سے عاری محسوس ہوتاہے ۔ تاہم بیانیہ کو مردود قرار دینے والے اس زمانے میں بھی کچھ اچھے افسانوں میں ان عناصر کو باہم پیوست کرنے کی صورتیں نکال لی گئی تھیں اور یوں ان میں تاثیر کی کرامت پیدا کر لی گئی۔ جن دنوں میرے افسانوں کا دوسرا مجموعہ ”جنم جہنم “ آیا تھا ان دنوں منشایاد نے ان تاثیر والے افسانوں کی جتنی تعداد بتائی تھی اس کی گنتی تو بس ایک ہاتھ کی انگلیوں پر تمام ہو جاتی ہے ۔ بھئی اب تو مجھے یقین ہو چلا کہ میں ادھر ادھر بھٹکتا رہوں گا اور شاید ڈھنگ سے یوسا پر بات نہ ہو پائے گی۔ تم میری اس گم راہی پر مجھے معاف کر دینا اورجو بھی باتیں تمہارے مطلب کی نہ ہوں ان سے سرسری گزر جانا۔ ہاں تو بات یوسا کی قوت ترغیب کی ہو رہی تھی جسے میں نے اپنی سہولت کے لیے فی الحال تخلیقی تاثیر سے بدل لیا ہے۔ یوسا ہمیں اطلاع دیتا ہے کہ کہانی جس قدر تجربے میں آنے والی زندگی سے قریب ہو گی اور جس قدر اس تجربے میںآنے والی زندگی سے آزاد ہو گی اس میں تاثیر کی قوت اتنی ہی زیادہ ہوگی۔ اس باب میں ہم اسی لال بیگ والا قصہ سامنے رکھ سکتے ہیں۔ دیکھو کافکا کا گرے گور سَمسا جتنی ذلتیں اٹھا رہا ہے وہ سار ی ہمارے تجربے اور مشاہدے کا حصہ ہیں ۔ اسی طرح کاکروچ ہم نے دیکھ رکھا ہے اور اس سے کراہت بھی ہمارے تجربے کا حصہ ہے۔ وہ جو یوسا نے کہا کہ کہانی کو ہمارے تجربے میں آنا چاہیے تو یوں ہے کہ گرے گور سَمسا اور کاکروچ کا الگ الگ وجود ہمارے تجربے سے جڑا ہوا ہے مگر ایک کردار کی دوسرے کردار میں کایا کلپ کے لیے جو باریک کام کافکا کے ہاں ہوا ہے اس کے عقب میں یوسا والی یہی بات کام کر رہی ہے کہ اس تجربے کو خود مکتفی ہو جانا چاہیے۔ تو یوں ہے کہ کس نے آدمی کو کاکروچ بنتے دیکھا ہے؟ مگر ہمیں دیکھنا پڑتا ہے اور وہ کافکا کی کہانی سے باہر کہیں نہیں ہے۔ انتظار حسین والی کہانی کا ایک المیہ یہ بھی ہے مکھی تو ہم نے دیکھ رکھی ہے مگر دیو ہماے تجربے کا حصہ نہیں ہے ۔ شہزادے اور شہ زادیاں بھی قصے کہانیوں کی مخلوق ہیں۔ اچھا مکھی کے حوالے سے اس کا غلیظ ہونا بھی ہمارے تجربے کا حصہ ہے۔ جب کہ انتظار کی کہانی میں محض اسے جسمانی سطح پر حقیر بناکر کہانی کا کام نکال لیا گیا ہے ۔ یوں ہمارا تجربہ جزوی طور پر چھواگیا ہے۔ علامتی اور تجریدی کہانی والوں کا بھی یہی المیہ رہا ہے ۔ وہ جس طرح کی زندگی بیان کرنا چاہتے تھے وہ قاری کے تجربے سے کٹی ہوتی یا پھر اوجھل ہوتی تھی۔ یہی سبب ہے کہ ان کی کہانیاں اس دنیا کا عکس تک نہ پیش کرسکیںجو ان کے قارئین تجربہ کرتے رہے ہیں اور یوں ایک دورافتادہ اور گونگی چیز بن گئیں۔ بہ قول یوسا: ایک ایسی اختراع جو ہمیں باہرد ھکیل کر دروازہ بند کردیتی ہے۔ تو یوں ہے پیارے کہ تاثیر پر میرا ایمان پختہ ہے اور یوسا کو پڑھ کر تو اور پختہ ہو گیا ہے۔یوسا کی یہ بات بھی لائق توجہ ہے کہ فکشن حیرت انگیز ابہام کا نام ہے۔ ایک طرف وہ حقیقت کی غلام ہے تو عین اسی لمحے خود مختار اور خود کفیل بھی ہے اور لطف یہ ہے کہ یہ انہی اجزا سے مرکّب ہے ۔ میں ان اجزا کو مساوی نہیں کہوں گا کہ ان کے تناسب میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے ۔ لو ابھی تک اسی خط پر بات کرپایا ہوں اب چاہتا ہوں کہ اسلوب والے خط پر توجہ مرکوز کردوں ۔ اس پر بعد میں بات ہوگی ۔”دنیا زاد“ کا نیا شمارہ مل گیا ہے جس میں تشی ہیکو از تسو کے مضمون کا ترجمہ” وجودیت: مشرق و مغرب“ شامل ہے میں اسے پہلی فرصت میں اور توجہ سے پڑھوں گا۔


محبت کے ساتھ


محمد حمیدشاہد


اسلام آباد: ۳ مئی ۸۰۰۲